Posts

مغربی تہذیب مسلمانوں کے لیے ایک زہر ہلاہل

 مغربی تہذیب مسلمانوں کے لیے ایک زہر ہلاہل ۔  تحریر۔          محمد احمد حسن سعدی امجدی۔  آج سے سالوں پہلے جب بڑے بڑے گرجا گھروں میں بیٹھ کر پوری دنیا سے اسلام اور مسلمانوں کے خاتمے کی باتیں کی جارہی تھی, ہر طرح کے ہتھکنڈوں کو بروئے کار لانے کے بارے میں غور وفکر کیا جا رہا تھا, تو سب سے پہلے اسلام دشمن عناصر نے ہمیں بنیادی طور پر کمزور کرنے کا حلف اٹھایا، انہوں نے سب سے پہلے ہماری اسلامی تہذیب و ثقافت اور اسلامی کلچر کو ہمارے دلوں سے نکال پھینکنے کے لیے ہمارے مابین عریانیت کو عام کرنے کا عزم کیا ،مغربی تہذیب کو ہماری پاکیزہ تہذیب پر مسلط کرنے کےلیے بہت سی چالیں چلی، بہت سے جال بنے، کیونکہ یہ بات ان کے علم میں بھی تھی کہ ہم مسلمانوں کے قلوب و اذہان کو یکبارگی نہیں بدل سکتے ، انہیں نماز سے یکبارگی نہیں روکا جا سکتا ، یکایک ان کے دلوں کو نبی کی محبت سے دور نہیں کیا جاسکتا ہے، لہذا انہوں نے بڑی سنجیدگی سے مسلمانوں میں بے حیائی اور عریانیت کو فروغ دینے کے لیے ٹی وی کا سہارا لیا اور رفتہ رفتہ اپنے گھٹیا منصوبوں پر کامیابی کی مہر لگانے لگے ، ٹی وی ک...

ماہ محرم الحرام اور یوم عاشوراء ، قرآن وحديث کی روشنی میں .

 ماہ محرم الحرام اور یوم عاشوراء ، قرآن وحديث کی روشنی میں .  تحرير.         محمد احمد حسن سعدی امجدی۔  بلاشبہ اللہ رب العزت نے سال میں چند مہینوں کو بے شمار خصوصیات عطا فرمایا ، ان مہینوں میں عبادت وریاضت دوسرے مہینوں کے بالمقابل زیادہ مقبول بارگاہ ہوتی ہے، انہیں امتیازی مہینوں میں ایک مہینہ محرم الحرام بھی ہے ،محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور یہ مہینہ اپنے دامن میں ڈھیر ساری رحمتیں اور برکتیں سموئے ہوئے ہے، اسلام کے آنے سے پہلے بھی اس مہینے کو قابل احترام سمجھا جاتا تھا لہذا اسلام نے بھی اس مبارک ماہ کے حرمت و تقدس کو برقرار رکھا ،  ارشاد باری ہے ۔  بے شک مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک اللہ کی کتاب میں بارہ مہینے ہیں ، جب سے اس نے آسمان اور زمین بنائے ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں، یہی سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر حال میں لڑوں جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔ سورة التوبة،آية 36 .ترجمہ کنزالایمان.  قرآن میں اس مبارک مہینے کا شمار چار ...

امام حسین اور فلسفہ شہادت ۔

 امام حسین اور فلسفہ شہادت ۔                                                            تحریر،        محمد احمد حسن امجدی۔  تاریخ اسلام میں ایسے بے شمار شہداء گزرے ہیں کہ یقینا جن کے جسموں سے بہنے والے خون کے ہر قطرے نے مذہب اسلام کو فروغ بخشا ہے ، جن کے جسموں پر لگنے والے ہر زخم نے اسلام کو حیات سرمدی سے بہرہ ور کیا ہے، وہ عظیم جانثاران، جنہوں نے اپنے جسموں پر تیروں کی بارشوں کو برداشت کیا ، جنہوں نے اپنے اعضائے تن و اجزائے بدن کو اپنے سامنے کٹتے ہوئے دیکھا ، اور بالآخر جام شہادت نوش کر گئے ، لیکن کبھی اسلام کے پرچم کو جھکنے نہیں دیا، کبھی اسلام کی عظمت پر کوئی حرف آنے نہیں دیا، جن کے دم قدم سے اسلام روز افزوں پھلتا پھولتا ہوا ہم تک پہنچا ہے۔ بلاشبہ کتب تاریخ ایسے دلیروں، بہادروں،جیالوں اور زندہ دل مجاہدوں کے ایمان افروز واقعات سے لبریز ہیں، کسی کاتب کے قلم میں وسعت کہاں، کسی مصنف کی کتاب میں وہ جرات ...

اصلاح معاشرہ میں اعلیٰحضرت کا کردار .

 اصلاح معاشرہ میں اعلیٰحضرت کا کردار .  تحریر،         محمد احمد حسن سعدی امجدی۔  ( ترجمان ۔ تنظیم جماعت رضاۓ مصطفی گورکھپور)  چودہویں صدی ہجری کی فقیدالمثال در نایاب اور مایہ ناز عبقری شخصیت سیدی سرکار اعلی حضرت امام احمد رضا خان فاضل بریلوی رحمہ اللہ تعالی اپنی گوناگوں خدمات جمیلہ اور مساعی جلیلہ کے باعث محتاج تعارف نہیں ،گزشتہ چند صدیوں کے مفسرین، محدثین، فقہاء اور مدبرین کی فہرست کو ملاحظہ کیا جائے تو دور دور تک آپ کی نظیر نہیں ملتی، شرک کی زہریلی فضا میں عظمت توحید کا علم بلند کرنے والی ذات کا نام اعلی حضرت ہے ، توہین رسالت کے پرآشوب ماحول میں محبت رسول کی قندیلیں فروزاں کرنے والی شخصیت کا نام اعلی حضرت ہے ، تنقیص اولیاء کی مسموم فضا میں توقیر اولیاء کی خوشبو بکھیرنے والے عالی مرتبت شخصیت کا نام اعلیٰحضرت ہے اور خرافات کے انبار سے اسلامی قدروں کے نگینے تلاش کرنے والے کا نام اعلیٰحضرت ہے ،  بلاشبہ آپ کی دینی،ملی ، سماجی فکری اور اعتقادی کارگزاریاں کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ آپ تن تنہا ایک انجمن اور انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت سے...

بھارتی حکومت اور بھارتی میڈیا دونوں فرانس کی حمایت میں۔

 بھارتی حکومت اور بھارتی میڈیا دونوں فرانس کی حمایت میں۔  از قلم۔ محمد احمد حسن سعدی امجدی۔  (ترجمان ۔ تنظیم جماعت رضاۓ مصطفی گورکھپور )  حالیہ دنوں میں فرانس اپنی گھٹیا اور غیر ذمہ دارانہ حرکات و سکنات سے مطمح نظر بنا ہوا ہے ، پوری دنیا سے اکثر و بیشتر اسلامی اور غیر اسلامی ممالک سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کا دم بھرنے والے عاشقان رسول صلی اللہ علیہ وسلم تحفظ ناموس رسالتﷺ کا علم بلند کر کے سڑکوں پر سراپا احتجاج بنے ہوئے ، اوراپنی اپنی حکومتوں سے فرانس کی مصنوعات پر مکمل پابندی کی مانگ کر رہے ہیں۔  واضح رہے کہ اس پورے معاملے کا اغاز فرانس کے ایک اسکول ٹیچر سیمول پیتھی سے ہوا، اس نے فرانس کی میگزین چارلی ہیبڈو کی جانب سے شائع کردہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے کارٹون کو اپنے کلاس میں اسکرین پر دکھا کر پوری دنیا کے مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیا ، جس کے نتیجے میں 16 اکتوبر 2020ء کو ایک غیرت مند مسلم اسٹوڈنٹ نے اس ٹیچر کا گلا کاٹ کر اسے واصل جہنم کر دیا، اس کے بعد فرانسیسی صدر میکرون نے اس قتل کی مذمت کی اور حضور ﷺ کی شان میں اس طرح کی گستاخیوں کو...

کیا حکومت کے لایعنی قوانین کی مخالفت جرم ہے ؟

 کیا حکومت کے لایعنی قوانین کی مخالفت جرم ہے ؟          (ڈاکٹر کفیل ایک مظلوم رہنما)  از قلم۔         محمد احمد حسن سعدی امجدی۔  ملک ہندوستان صفحہ ہستی پر مختلف ادیان کے باشندگان سے لہلہاتا ہوا ایک سرسبز و شاداب چمنستان ہے، اس ملک کا قانون جہاں ہر مذہب کے ماننے والوں کو اپنے مذہب کے مطابق رہنے کی پوری پوری آزادی فراہم کرتا ہے تو وہیں ہر شہری کو عدم اتفاق کی صورت میں حکومت کی تجویزات کے خلاف احتجاج کرنے کا حق بھی دیتا ہے، جس کے پاداش میں گزشتہ مہینوں جب بھارت کی بااقتدار پارٹی نے سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر جیسے انسانیت سوز بل پارلیمنٹ سے پاس کیے تو ان مذکورہ بلوں کے خلاف بعض امن پسند حضرات اپنا آئینی حق استعمال کرتے ہوئے احتجاج پر آمادہ گئے، دیکھتے ہی دیکھتے یہ معاملہ طول پکڑتا گیا ، پھر ملک کے ہر کونے سے بلا تفریق مذہب و ملت عوام سڑکوں پر اتر آئی ، پھر کیا تھا ، ظلم و استبداد کے معاملے میں منجھی منجھائی موجودہ حکومت نے ملک کا درد رکھنے والے لوگوں پر زدوکوب کی ساری حدیں پار کر دی، ان پر بیجا مظالم ڈھائے جو کہ...

بھارت کا پڑوسی ممالک کے ساتھ اتحاد کا خاتمہ اور اس کے اسباب

 بھارت کا پڑوسی ممالک کے ساتھ اتحاد کا خاتمہ اور اس کے اسباب از قلم۔ محمد احمد حسن سعدی امجدی۔  بلاشبہ دنیا میں 195 سے زائد ممالک ہیں اور ہر ملک کے پاس بے شمار ایٹمی قوتیں اور لاتعداد ہتھیار سے لیس فوجی ہوتے ہیں جو دشمن سے مقابلہ آرائی کے وقت ان کے تحفظ و بقا کے ضامن ہوتے ہیں ، اس کے علاوہ چند ممالک آپس میں دوستی اور معاہدہ کر لیتے ہیں جو میدان جنگ میں ایک دوسرے کی پشت پناہی کرکے دشمن کے مضبوط سے مضبوط قلعے کو بھی زمین بوس کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ، یہ اتحاد کبھی دو مختلف براعظموں کے دو مختلف ملکوں میں ہوتا ہے تو کبھی پاس پڑوس کے ممالک میں، اور بلاشبہ پڑوسی ممالک کا اتحاد مختلف براعظموں کے اتحاد پر فوقیت رکھتا ہے ، کیونکہ اعلان جنگ کے بعد اگر آپ کو اپنے اتحادی ملک سے مدد طلب کرنا ہے اور آپ کا اتحادی ملک دوسرے براعظم پر واقع ہے تو یقیناً اسے آپ تک پہنچنے میں ، آپ تک اپنی مسلح افواج کو بھیجنے میں، ہتھیار سپلائی کرنے میں بہت زیادہ وقت درکار ہوگا بمقابل پڑوسی ملک کے،  تو پتہ چلا کہ ہر ملک کے لیے اپنے پڑوسی ممالک سے اتحاد کرنا اور اسے برقرار رکھنا نہایت ہی اہم اور ضروری ہے...